12 اکتوبر 2013 - 20:30
سعودي عرب ميں خواتين کي ڈرائيونگ پر پابندي

سعودي عرب ميں خواتين کو ڈرائيونگ کا حق ديئے جانے کے لئے چلائي جانےوالي تحريک کے دوران اس تحريک کي ايک رہنما کو گرفتار کرليا گيا ہے -

ابنا: آل سعود حکومت کي سيکورٹي فورس نے خواتين کو ڈرائيونگ کا حق ديئے جانے کے لئے چلائے جانےوالي تحريک کي ايک اہم رہنما ايمان النجفان کو اس وقت  گرفتار کرليا جب وہ کار ڈرائيو کررہي تھيں - ايمان النجفان نے جمعے  کو اپني گرفتاري سے پہلے سي اين اين سے انٹرويو ميں کہا تھا کہ وہ اپنا زيادہ وقت ڈرائيونگ کرتي ہوئي خواتين کي فوٹولينے اور انٹرنيٹ پر ان کي کلپ ڈالنے اور اس تحريک کے لئے اپنے ٹوئٹر پر گذارتي ہيں –واضح رہے کہ سعودي خواتين نے ڈرائيونگ پر عائد پابنديوں کے خلاف انٹرنيٹ پر اپني ڈرائيونگ کي کلپ اور تصاوير  لوڈ کرنے کي مہم شروع کررکھي ہے –دوسري طرف سرگرم سعودي خواتين نے اکتوبر کے مہينے ميں ڈرائيونگ پر عائد پابندي کے خلاف ملک گير تحريک کا پروگرام بنا رکھا ہے –واضح رہے کہ سعودي عرب دنيا کا واحد ملک ہے جہاں خواتين کو ڈرائيونگ کرنے کي اجازت نہيں ہےاور قرون وسطي کي يہ پابندي اس ملک کے وہابي مفتيوں کے فتووں کي وجہ سے ہے چنانچہ اگر سعودي عرب ميں کوئي خاتون کار چلاتي ہوئي ديکھ لي جاتي ہے تو اس کو فورا گرفتار کرکے جيل ميں بند کرديا جاتا ہے اور اسے کوڑے بھي لگائے جاتے ہيں -

.......

/169